Thursday, 10 June 2021

سحر ہی آئی نہ وہ شاہد سحر آیا

 سحر ہی آئی نہ وہ شاہد سحر آیا

غبار شب کا مسافر ہی میرے گھر آیا

تھکن کی دھوپ ڈھلی بھی نہیں تھی سر سے ابھی

عذاب حکم سفر مجھ پہ پھر اتر آیا

دیا جلاتے ہوئے ہاتھ کانپتے کیوں ہیں

کہاں سے خوف بدن میں ہوا کا در آیا

یہ لمحہ لمحہ بکھرتی ہوئی انا کا وجود

نہ یہ زمین نہ وہ آسماں نظر آیا

ردا رہی نہ بدن پر کوئی قبا شاداب

یہ کون دھوپ میں دیکھو برہنہ سر آیا

بدن تمام ہوا ہے لہو لہان مرا

نئی رتوں کا مسافر بہ چشم تر آیا

بہت عزیز ہے اپنے وطن کی خاک ہمیں

جو خواب آنکھوں میں آیا وہ معتبر آیا


جاوید اکرم 

No comments:

Post a Comment