Thursday, 10 June 2021

پھر نئے اقرار کی باتیں کریں

 پھر نئے اقرار کی باتیں کریں

آؤ بیٹھو، پیار کی باتیں کریں

جس جگہ پہ گل کھلیں آشاؤں کے

بس اسی گلزار کی باتیں کریں

میں دیوانی ہوں اگر کرنا ہی ہے

مل کے کوئے یار کی باتیں کریں

حق بیانی ہے مِری عادت سحر

وہ فصیلِ دار کی باتیں کریں


عفراء بتول سحر

No comments:

Post a Comment