Thursday, 10 June 2021

اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

 اک شجر ایسا محبت کا لگایا جائے

جس کا ہمسائے کے آنگن میں بھی سایا جائے

یہ بھی ممکن ہے بتا دے وہ کوئی کام کی بات

اک نجومی کو چلو ہاتھ دکھایا جائے

دیکھنا یہ ہے کہ کون آتا ہے سایہ بن کر

دھوپ میں بیٹھ کے لوگوں کو بلایا جائے

یا مِری زیست کے آثار نمایاں کر دے

یا بتا دے کہ تجھے کیسے بھلایا جائے

اس کے احسان سے انکار نہیں ہے لیکن

نقش پانی پہ ظفر کیسے بنایا جائے


ظفر زیدی

No comments:

Post a Comment