صحبتِ مے کشی سرسری رہ گئی
وہ جو مِینا بھری تھی، بھری رہ گئی
کیا غضب ہے نشیمن سُلگتا رہا
اور شاخِ نشیمن ہری رہ گئی
آخرش کام آ ہی گئی خامشی
لفظ و معنی کی پردہ دری رہ گئی
ہر نظر بن گئی اپنے سینے کا تیر
اک خلش بن کے دیدہ وری رہ گئی
نسلِ آدم سے اتنے اٹھے کردگار
اپنے لب سی کے پیغمبری رہ گئی
میرا ہر نقشِ پا بن گیا سنگِ میل
خضر کی زحمتِ رہبری رہ گئی
شورِ دامانِ غم ہو گیا تار تار
ہر مسرت کی بخیہ گری رہ گئی
شور علیگ
منظور حسین
No comments:
Post a Comment