Thursday, 10 June 2021

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ دھوپ اور چھاؤں کے کھیل میں

 اچانک

کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ

دھوپ اور چھاؤں کے کھیل میں یکدم

سلگتے گلاب، تر ہوں گے

بنجر زمین اور پیڑ پر

 اس قدر ثمر ہوں گے


بینا گوئندی

No comments:

Post a Comment