اسے کہنا کہ
مجھ کو منتظر رہنا
بہت تکلیف دیتا ہے
کبھی آئے
مجھے دیکھے
کہ اس کی یاد میں ہم نے
کئی لمحے کئی پل اور
کتنی ان گنت صدیاں
گزاریں ہیں
قیامت سی
اسے کہنا
کہ میری زندگی
ویران کھنڈر ہے
جہاں پہ رات کو
تنہائیاں یادیں سبھی باتیں
مسلسل بین کرتے ہیں
اسے کہنا کہ
آ جائے
قبل اس کے
کہ یہ سانسوں کی مالا ٹوٹ کر بکھرے
قبل اس کے کہ میرے جسم سے یہ روح بھی نکلے
کہیں ایسا نہ ہو جائے
بہت ہی دیر ہو جائے
اسے کہنا
کہنا کہ مجھ کو
منتظر رہنا بہت تکلیف دیتا ہے
شاہانہ ناز
No comments:
Post a Comment