Wednesday, 9 June 2021

مزاحمت پہ بهی رکتا نہیں یہ چلتا ہے

مزاحمت پہ بهی رکتا نہیں یہ چلتا ہے

جنون حرکی قوانین کو بدلتا ہے

کبهی کبهی تو یہ طائر مِرے تخیل کا

تری گلی سے سرِ عرش جا نکلتا ہے

تمہارا ساتھ بهی قیمت میں وقت جیسا ہے

تو جس کے ہاتھ نہ آئے وہ ہاتھ ملتا ہے

میں سوچتا ہوں کہ مریخ پہ چلا جاؤں

زمیں پہ ایک بشر مجھ سے رخ بدلتا ہے


حسنین سائر

No comments:

Post a Comment