مزاحمت پہ بهی رکتا نہیں یہ چلتا ہے
جنون حرکی قوانین کو بدلتا ہے
کبهی کبهی تو یہ طائر مِرے تخیل کا
تری گلی سے سرِ عرش جا نکلتا ہے
تمہارا ساتھ بهی قیمت میں وقت جیسا ہے
تو جس کے ہاتھ نہ آئے وہ ہاتھ ملتا ہے
میں سوچتا ہوں کہ مریخ پہ چلا جاؤں
زمیں پہ ایک بشر مجھ سے رخ بدلتا ہے
حسنین سائر
No comments:
Post a Comment