Wednesday, 9 June 2021

جھوم کے جب لب گلشن پہ دعا آتی ہے

 جھوم کے جب لب گلشن پہ دعا آتی ہے

الٹے پاؤں ہی پلٹ باد صبا آتی ہے

اب تو سانسوں سے بھی خوشبوئے دعا آتی ہے

ہاتھ اٹھتے ہی فضاؤں سے صدا آتی ہے

چاندنی جب بھی اندھیروں سے دغا کرتی ہے

رات کی گود میں تاروں کو قضا آتی ہے

رتجگے راس کبھی آتے نہیں ہیں ہم کو

نیند خوابوں کی دعاوءں سے جدا آتی ہے

پہلے تو دستِ دعا سخت تھے پتھر کی طرح

اب تو پھولوں کی طرح لب پہ دعا آتی ہے

اس کی نظروں سے لپٹ جاتے ہیں دل کے ٹکڑے

اس کے آجانے سے محفل میں قضا آتی ہے


عادل اشرف

No comments:

Post a Comment