جھوم کے جب لب گلشن پہ دعا آتی ہے
الٹے پاؤں ہی پلٹ باد صبا آتی ہے
اب تو سانسوں سے بھی خوشبوئے دعا آتی ہے
ہاتھ اٹھتے ہی فضاؤں سے صدا آتی ہے
چاندنی جب بھی اندھیروں سے دغا کرتی ہے
رات کی گود میں تاروں کو قضا آتی ہے
رتجگے راس کبھی آتے نہیں ہیں ہم کو
نیند خوابوں کی دعاوءں سے جدا آتی ہے
پہلے تو دستِ دعا سخت تھے پتھر کی طرح
اب تو پھولوں کی طرح لب پہ دعا آتی ہے
اس کی نظروں سے لپٹ جاتے ہیں دل کے ٹکڑے
اس کے آجانے سے محفل میں قضا آتی ہے
عادل اشرف
No comments:
Post a Comment