Wednesday, 9 June 2021

درد دل سے کبھی جدا نہ ہوا

 درد دل سے کبھی جدا نہ ہوا

کوئی ہمدرد آپ سا نہ ہوا

ان کے ہمراہ تھا تمام سفر

طے مگر پھر بھی راستہ نہ ہوا

ہم بھنور میں تھے ڈوبتے ہی گئے

ناخدا تو کبھی خدا نہ ہوا

آپ کا غم ہے آپ سے بہتر

وہ کبھی ہم سے بے وفا نہ ہوا

ہیں سبھی لوگ شہر کے اچھے

ہم سے بڑھ کر کوئی برا نہ ہوا

ہم سے روٹھی رہی کرن، لیکن

دل تو دل سے کبھی جدا نہ ہوا


کویتا کرن

No comments:

Post a Comment