Saturday, 17 April 2021

ذکر اس پری وش کا

(منافقت کا چہرہ اجاگر کرتی عمدہ نظم) ذکر اس پری وش کا


آج ایک محفل میں دوستوں کا مجمع تھا

ایک معتبر ساتھی ہم جلیس و ہم مشرب

دوستوں کی محفل سے آج غیر حاضر تھا

اک رفیق کو اپنے دوست کا خیال آیا

گفتگو کا رُخ بدلا ذکر چھڑ گیا اُس کا

“ایک محترم بولے ”وہ بڑا منافق ہے

“دوسرے نے کی تردید ”آپ اس سے بدظن ہیں

“تیسرے کی تھی آواز ”وہ بڑا کمینہ ہے

درمیاں میں اک خاتون کی سنی گئی یہ بات

“وہ شریف انساں ہے اور وفا کا پتلا ہے”

“دوسری کا تھا اعلان ”وہ فراڈ کرتا ہے

تیسری کا تھا فرمان ”وہ ہوس کا بندہ ہے

“اپنے مخلصوں کے ساتھ جنگ کرتا رہتا ہے

ایک اور صاحب نے منکشف کیا یہ راز

دوستوں سے اکثر وہ قرض لیتا رہتا ہے”

اور پھر کبھی ان کو کچھ ادا نہیں کرتا

جھوٹ بات کہنے میں عار ہی نہیں کرتا

ہر گھڑی اسے اپنی کمتری کا ہے احساس

“اس لیے ہمیشہ وہ پوز کرتا رہتا ہے

دور ایک گوشے سے اک بزرگ علامہ

مستند دلائل کی روشنی میں بولے

وہ غریب جاہل ہے یعنی ایک چوپایہ”

ڈگریوں، کتابوں کا بوجھ پیٹھ پر لادے

“مرغزار دانش کی گھاس چرتا رہتا ہے

دفعتاً ہوئی آہٹ اور معتبر ساتھی

روبرو نظر آیا، زیرِ لب تبسم تھا

پُرخلوص لہجے میں دوستوں نے فرمایا

بور ہو رہے تھے ہم، مرحبا کہ تم آئے”

“آج بس تمہارا ہی ذکرِ خیر جاری تھا


ظفر حمیدی

No comments:

Post a Comment