خار رستے ہیں تِرا ساتھ ضروری ہے بہت
واسطے میرے، تِری ذات ضروری ہے بہت
اک تو احباب بھی نالاں ہیں مِرے ہونے سے
دوسرا زندگی میں مات ضروری ہے بہت
جس گھڑی شانوں پہ کچھ بوجھ سا لگتا ہے مجھے
اس گھڑی جاناں تِرا ساتھ ضروری ہے بہت
اس سے پہلے کہ مِرے بالوں میں چاندی اترے
میری جاں تجھ سے ملاقات ضروری ہے بہت
دو تہائی تو گزر ہی گئی تنہا، لیکن
آخری سانس تلک ساتھ ضروری ہے بہت
کب تلک بیٹھے رہیں گے یونہی چپ چاپ اے شوق
کچھ بھی ہو جائے شروعات ضروری ہے بہت
مدیحہ شوق
No comments:
Post a Comment