Saturday, 17 April 2021

مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں

 مکاں سے لا مکاں تک آ گئے ہیں

کہاں سے ہم کہاں تک آ گئے ہیں

جہاں جلتے ہیں پر ہوش و خرد کے

جنوں میں ہم وہاں تک آ گئے ہیں

بھڑک اٹھی ہے کیسی آتشِ گل

شرارے آشیاں تک آ گئے ہیں

خلوص دوستی پر مرنے والے

حیاتِ جاوِداں تک آ گئے ہیں

ہماری گم رہی منزل نشاں ہے

تجسس میں کہاں تک آ گئے ہیں

وہاں دل میں محبت کی کمی ہے

جہاں شکوے زباں تک آ گئے ہیں

تماشائے بہارِ گل کی شیدا

بہارِ گُل رُخاں تک آ گئے ہیں

مقام اپنا نہیں معلوم، لیکن

جہاں تم ہو وہاں تک آ گئے ہیں

کسی کے جلوہ ہائے حیرت انگیز

نظر کے امتحاں تک آ گئے ہیں

نہ پہنچے خانۂ دل کے مکیں تک

زمیں سے آسماں تک آ گئے ہیں

گزر کر ہم خودی وہم و گماں سے

خدا جانے کہاں تک آ گئے ہیں

رشی منزل نہیں اب دور ہم سے

غبارِ کارواں تک آ گئے ہیں


رشی پٹیالوی

No comments:

Post a Comment