Saturday, 17 April 2021

سکوت گریہ و ہنگام شب کے بیچ کہیں

 سکوتِ گریہ و ہنگامِ شب کے بیچ کہیں

دعا سفر میں رسد اور طلب کے بیچ کہیں

ادا کے ناز نہ اٹھے تو بانکپن سے گئی

انا کے غیظ سے لپٹی، غضب کے بیچ کہیں

دکھائی دیتا ہے ہر جا پہ آدمی کا چلن

نسب کے ساتھ نمایاں، حسب کے بیچ کہیں

یہ کہہ کہ ٹال دی اس نے ہماری عرض خودی

جسارتوں کی جھلک ہے ادب کے بیچ کہیں

جواز ڈھونڈنے نکلی، فرح وہ ایک خلش

ہماری جھوٹی انا اور سبب کے بیچ کہیں


فرح رضوی

No comments:

Post a Comment