Wednesday, 7 April 2021

محبت پر ایک طویل نظم لکھ سکتا ہوں

 کہیں سنا تھا

شاعر بننے کے لیے ہجر لازم ہے

لکھاری کو ایک چوٹ درکار ہوتی ہے

درد سے فنکار کے فن میں نکھار آتا ہے

لیکن میری زندگی تو

حسین بانہوں کے حصار

اور مے خانے میں گزر رہی ہے

سنو

تمہارے ہوتے ہوئے مجھے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں

میں تمہیں سوچتا ہوں

اور شاعری لکھتا ہوں

اپنے لفظوں میں

کہیں تمہاری مسکراہٹ پر نثار ہو رہا ہوتا ہوں

تو کہیں تمہاری آنکھوں کو

چوم کر اپنی ادھوری تحریریں مکمل کرتا ہوں

کہیں تمہارے ہونٹوں کی محراب پر موجود

تمام ان کہی خواہشات کو

اپنے ہونٹوں سے محسوس کرتا ہوں

تو کبھی تمہارے سینے پر سر رکھے

تمہاری دھڑکن کی مدھم موسیقی سن کر

اپنا تخیل اور مضبوط کرتا ہوں

میں پل بھر میں تمہاری گردن پر بوسہ دے کر

محبت پر ایک طویل نظم لکھ سکتا ہوں


میاں وقار 

No comments:

Post a Comment