کہیں سنا تھا
شاعر بننے کے لیے ہجر لازم ہے
لکھاری کو ایک چوٹ درکار ہوتی ہے
درد سے فنکار کے فن میں نکھار آتا ہے
لیکن میری زندگی تو
حسین بانہوں کے حصار
اور مے خانے میں گزر رہی ہے
سنو
تمہارے ہوتے ہوئے مجھے اور کسی چیز کی ضرورت نہیں
میں تمہیں سوچتا ہوں
اور شاعری لکھتا ہوں
اپنے لفظوں میں
کہیں تمہاری مسکراہٹ پر نثار ہو رہا ہوتا ہوں
تو کہیں تمہاری آنکھوں کو
چوم کر اپنی ادھوری تحریریں مکمل کرتا ہوں
کہیں تمہارے ہونٹوں کی محراب پر موجود
تمام ان کہی خواہشات کو
اپنے ہونٹوں سے محسوس کرتا ہوں
تو کبھی تمہارے سینے پر سر رکھے
تمہاری دھڑکن کی مدھم موسیقی سن کر
اپنا تخیل اور مضبوط کرتا ہوں
میں پل بھر میں تمہاری گردن پر بوسہ دے کر
محبت پر ایک طویل نظم لکھ سکتا ہوں
میاں وقار
No comments:
Post a Comment