حسین امتزاج سے بھری ہوئی ندی ہو تم
یہ دل میں کس طرح کی لہریں پیدا کر رہی ہو تم
کسی بھی اتفاق سے یا پورے اعتماد سے
ملو مجھے اگر مِرے نصیب میں لکھی ہو تم
نظر کے ہر حصار سے بچا کے رکھ رہا ہوں میں
زمین میں دبی ہوئی قدیم مُورتی ہو تم
ہم ایک دوسرے سے یہ گِلہ کریں گے عمر بھر
کسی کی زندگی ہوں میں کسی کی زندگی ہو تم
زبان زد عام ہے تمہارے نام کی ردیف
قدیم دور میں لکھی جدید شاعری ہو تم
مری رگوں میں بُن رہی ہو جیسے دائمی سکوت
غمِ حیات میں شریک عارضی خوشی ہو تم
نکل نہ جائے اور کہیں بھٹک کے راستہ کوئی
ذرا سی کھڑکی کھول کے گلی میں دیکھتی ہو تم
غزل کے ایک شعر میں بہت سے تجربوں کے بعد
بیان کی نہ جا سکے وہ خوبصورتی ہو تم
معید مرزا
No comments:
Post a Comment