Wednesday, 7 April 2021

حسین امتزاج سے بھری ہوئی ندی ہو تم

 حسین امتزاج سے بھری ہوئی ندی ہو تم

یہ دل میں کس طرح کی لہریں پیدا کر رہی ہو تم

کسی بھی اتفاق سے یا پورے اعتماد سے

ملو مجھے اگر مِرے نصیب میں لکھی ہو تم

نظر کے ہر حصار سے بچا کے رکھ رہا ہوں میں

زمین میں دبی ہوئی قدیم مُورتی ہو تم

ہم ایک دوسرے سے یہ گِلہ کریں گے عمر بھر

کسی کی زندگی ہوں میں کسی کی زندگی ہو تم

زبان زد عام ہے تمہارے نام کی ردیف

قدیم دور میں لکھی جدید شاعری ہو تم

مری رگوں میں بُن رہی ہو جیسے دائمی سکوت

غمِ حیات میں شریک عارضی خوشی ہو تم

نکل نہ جائے اور کہیں بھٹک کے راستہ کوئی

ذرا سی کھڑکی کھول کے گلی میں دیکھتی ہو تم

غزل کے ایک شعر میں بہت سے تجربوں کے بعد

بیان کی نہ جا سکے وہ خوبصورتی ہو تم


معید مرزا

No comments:

Post a Comment