نہ اِدھر رکھتے ہیں لے کر نہ اُدھر رکھتے ہیں
اُن کو معلوم نہیں دل کو کدھر رکھتے ہیں
پردہ داری سے بھلا حُسن کہیں چھُپتا ہے
تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں
ہائے رے سادگی اُن کی کہ مِرا دل لے کر
بولے شرما کے؛ بھلا اس کو کدھر رکھتے ہیں
غیر سے بھی نہ حمایت کی مری، کہنے لگے
پالتو ہے یہ، اسے جان کے گھر رکھتے ہیں
حمزہ عمران
No comments:
Post a Comment