وہ لڑکی دُکھوں کی ماری ہو سکتی ہے
ورنہ وہ تو اور بھی پیاری ہو سکتی ہے
دیکھ! دوپٹہ لے کر گھر سے نکلا کر
دیکھ! ہوس تو سب پہ طاری ہو سکتی ہے
ایک شکل پہ کتنے چہرے ہو سکتے ہیں
ایک محبت کتنی باری ہو سکتی ہے
ان آنکھوں میں تھوڑا کاجل ڈالا کر
ان میں تھوڑی اور خماری ہو سکتی ہے
اسد منٹو
No comments:
Post a Comment