جنوں کے قافلوں کی بے نشاں منزل کا کیا کہنا
اسیرانِ خِرد کے حال میں شامل کا کیا کہنا
جمالِ مستئ غرقاب میں دم خم تو ہے لیکن
کسی چشمِ فنا کی خواہشِ ساحل کا کیا کہنا
درونِ اژدحامِ مردماں گر خود سے ملنا ہو
تو ایسی اتفاقی منفرد محفل کا کیا کہنا
ہے گر اپنا مقدر کشتۂ تیغِ جفا ہونا
تو پھر ایک ناگہانی پنجۂ قاتل کا کیا کہنا
تِرے قصر وفا کی چھت تلے زندہ تو ہیں ہمدم
مگر اس سائبان شوقِ لا حاصل کا کیا کہنا
ہمیں بھی اشتیاقِ انکشافِ حق تو ہے عاصم
مگر اس مخمصے اس دائمی مشکل کا کیا کہنا
عاصم بخشی
No comments:
Post a Comment