Wednesday, 1 May 2024

میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا

 میں نے ایک لوہے کا چاند نگل لیا


میں نے لوہے کا ایک چاند نگل لیا

وہ اسے کیل کہتےہیں

میں صنعتی اخراج، یہ نوکری کی ٹھکرائی ہوئی عرضیاں نگل چکا ہوں

مشین پر جھکے ہوئے نوجوان وقت سے پہلے مر جاتے ہیں

میں  شوروغوغا اور تہی دستی نگل چکا ہوں

پیادہ رو پُل اور زنگ آلود زندگی بھی  نگل لی ہے

اب مزید نہیں نگل سکتا

نگلا ہوا سب کچھ  میرے حلق سے باہر آ رہا ہے

میرے آباؤ اجداد کی دھرتی پر پھیل رہا ہے

ایک بے توقیر نظم کی صورت


شاعری؛ شولیزی

اردو ترجمہ؛ عاصم بخشی

No comments:

Post a Comment