Wednesday, 1 May 2024

وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ

 کیسی کیسی آیتیں مستور ہیں نقطے کے بیچ 

کیا گھنے جنگل چھپے بیٹھے ہیں اک دانے کے بیچ 

رفتہ رفتہ رخنہ رخنہ ہو گئی مٹی کی گیند 

اب خلیجوں کے سوا کیا رہ گیا نقشے کے بیچ 

میں تو باہر کے مناظر سے ابھی فارغ نہیں 

کیا خبر ہے کون سے اسرار ہیں پردے کے بیچ 

اے دل ناداں! کسی کا روٹھنا مت یاد کر 

آن ٹپکے گا کوئی آنسو بھی اس جھگڑے کے بیچ 

سارے اخباروں میں دیکھوں حال اپنے برج کا 

اب ملاقات اس سے ہو گی کون سے ہفتے کے بیچ 

میں نے انور اس لیے باندھی کلائی پر گھڑی 

وقت پوچھیں گے کئی مزدور بھی رستے کے بیچ 


انور مسعود

No comments:

Post a Comment