موجود تھا، موجود ہوں، موجود رہوں گا
تم دفن کرو، صُورتِ سبزہ میں اُٹھوں گا
تم شب کی سیاہی میں مجھے قتل کرو گے
اور صبح کے اخبار کی سُرخی میں بنوں گا
آثار بتاتے ہیں؛ وہ دن دُور نہیں ہے
میں صُورت مہتاب خلاؤں میں اُڑوں گا
کچھ لوگ ابھی میری کفالت میں ہیں سپرا
میں ان کے لیے موت سے لڑ کر بھی جیوں گا
تنویر سپرا
No comments:
Post a Comment