Wednesday, 1 May 2024

جدا ہوتے نہیں ایسے بھی کچھ آزار ہوتے ہیں

 جدا ہوتے نہیں ایسے بھی کچھ آزار ہوتے ہیں

سفر کے آخری رستے بڑے دشوار ہوتے ہیں

جو چہرے پر لکھی تحریر پڑھ لیتے ہیں پل بھر میں

کچھ ایسے لوگ ہیں مثل ستارہ بار ہوتے ہیں

یہاں جو بھی ہے سب باطل نظر کا ایک دھوکہ ہے

تو پھر کس بات پر ہم یونہی دعویدار ہوتے ہیں

سفر جتنا بھی طے پایا یہ سارا کھیل لگتا ہے

یوں لگتا ہے سبھی کار ہنر بے کار ہوتے ہیں

ہماری مسکراہٹ تو ہمارے غم چھپاتی ہے

ہمارے رازداں گھر کے در و دیوار ہوتے ہیں

جو تم نے کر دیا سو کر دیا دریا میں جانے دو

پھر اس کے بعد تو شکوے گلے بیکار ہوتے ہیں


آئرین فرحت

No comments:

Post a Comment