جدا ہوتے نہیں ایسے بھی کچھ آزار ہوتے ہیں
سفر کے آخری رستے بڑے دشوار ہوتے ہیں
جو چہرے پر لکھی تحریر پڑھ لیتے ہیں پل بھر میں
کچھ ایسے لوگ ہیں مثل ستارہ بار ہوتے ہیں
یہاں جو بھی ہے سب باطل نظر کا ایک دھوکہ ہے
تو پھر کس بات پر ہم یونہی دعویدار ہوتے ہیں
سفر جتنا بھی طے پایا یہ سارا کھیل لگتا ہے
یوں لگتا ہے سبھی کار ہنر بے کار ہوتے ہیں
ہماری مسکراہٹ تو ہمارے غم چھپاتی ہے
ہمارے رازداں گھر کے در و دیوار ہوتے ہیں
جو تم نے کر دیا سو کر دیا دریا میں جانے دو
پھر اس کے بعد تو شکوے گلے بیکار ہوتے ہیں
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment