Monday, 10 July 2023

اے رب نوا ڈال دے دامن میں نئی نعت

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اے رب نوا ڈال دے دامن میں نئی نعت

معمورۂ احساس کو مہکاتی ہوئی نعت 

درکار ہے ٹھہرے ہوئے جذبات کو مہمیز 

یہ کام جو کر پائے ہو اب ایسی کوئی نعت

کر دے جو قریں ذاتِ رسولِؐ دو سرا سے 

ہے میری نگاہوں میں وہی نعت بڑی نعت

جب ناقہ قُبا سے تھا مدینے کو روانہ

اس منظرِ پاکیزه سے ضو ریز رہی نعت

جلوے تھے جب اس نورِ مجسم کے ہویدا 

اس عہدِ مقدس کی ہے تصویر گری نعت

حجرے سے وہ سرکارؐ کا مسجد میں نکلنا

اس لمحے میں ہو کاش رچی اور بسی نعت

حنّانہ کو سرکارﷺ جو  دیتے تھے تسلی 

اس لطف سے آراستہ ہو جائے کوئی نعت

جب زیدؓ و بلالؓ آتے تھے آقاؐ کے جلو میں

 کچھ دیر تو اس وقت کو ٹھہرائے کبھی نعت

تائب! گُلِ تقدیس کِھلاتی ہی رہے گی 

گلزارِ وطن میں ہے نسیمِ سحری نعت


حفیظ تائب

No comments:

Post a Comment