عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے رب نوا ڈال دے دامن میں نئی نعت
معمورۂ احساس کو مہکاتی ہوئی نعت
درکار ہے ٹھہرے ہوئے جذبات کو مہمیز
یہ کام جو کر پائے ہو اب ایسی کوئی نعت
کر دے جو قریں ذاتِ رسولِؐ دو سرا سے
ہے میری نگاہوں میں وہی نعت بڑی نعت
جب ناقہ قُبا سے تھا مدینے کو روانہ
اس منظرِ پاکیزه سے ضو ریز رہی نعت
جلوے تھے جب اس نورِ مجسم کے ہویدا
اس عہدِ مقدس کی ہے تصویر گری نعت
حجرے سے وہ سرکارؐ کا مسجد میں نکلنا
اس لمحے میں ہو کاش رچی اور بسی نعت
حنّانہ کو سرکارﷺ جو دیتے تھے تسلی
اس لطف سے آراستہ ہو جائے کوئی نعت
جب زیدؓ و بلالؓ آتے تھے آقاؐ کے جلو میں
کچھ دیر تو اس وقت کو ٹھہرائے کبھی نعت
تائب! گُلِ تقدیس کِھلاتی ہی رہے گی
گلزارِ وطن میں ہے نسیمِ سحری نعت
حفیظ تائب
No comments:
Post a Comment