Thursday, 2 December 2021

بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں

 بیٹھے ہوئے ہیں سوچ میں اظہار کیا کریں

رسوائیوں کا تذکرہ ہر بار کیا کریں

ملتا نہیں مسیحا کوئی مرض عشق کا

اب آپ ہی بتائیے بیمار کیا کریں

اونچی عمارتوں کے ہیں شوقین سب یہاں

ہم سادگی کا شہر میں پرچار کیا کریں

اعجاز ہر دوکان میں کانٹے سجے ملے

پھولوں کی خوشبوؤں کے خریدار کیا کریں


اعجاز قریشی

No comments:

Post a Comment