تمام لفظ، محبت کے باب، میرے لیے
کسی نے کھول دی دل کی کتاب میرے لیے
یہ زندگی تو فقط خواہشوں کا صحرا ہے
قدم قدم پہ بچھے ہیں سراب میرے لیے
بس ایک شخص نے آنکھوں کو نور نور کیا
بس ایک شخص نہیں دستیاب میرے لیے
یقیں نہیں ہے تو بے ربط دھڑکنوں کو سنو
کہ دے رہا ہے مِرا دل جواب میرے لیے
یہ تتلیاں، یہ مہکتے گلاب، تیرے لیے
یہ ٹوٹے دل یہ ادھورے سے خواب میرے لیے
ہیں تیری دید سے آنکھوں کے مے کدے قائم
یہی نشہ ہے، یہی ہے شراب میرے لیے
فیضان قادر
No comments:
Post a Comment