Friday, 4 February 2022

اس نے دھیمے سروں میں غزل چھیڑ دی

 اُس نے دھیمے سُروں میں غزل چھیڑ دی

اور ایسا لگا

سانولی شام کے نرم لمحات میں بانجھ ہوتی ہوئی 

زرد شاخوں پہ بھی پھول کِھلنے لگے

اُس کی آواز تھی کہ کوئی سحر تھا

خوشبووں سے لدی کشتیوں کے حسیں قافلے 

میری بنجر سماعت کے سُونے پڑے 

ساحلوں پر مسلسل اُترنے لگے

اُس کی آواز کی نرمگیں روشنی

دھیرے دھیرے سے الہام ہوتی رہی

شام ہوتی رہی 

نیلگوں پانیوں کے حسیں گال پر ہونٹ رکھنے کو سورج

ذرا جُھک گیا

اُس نے دھیمے سروں میں غزل چھیڑ دی

وقت تک رُک گیا


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment