Friday, 4 February 2022

ہم نے مانا عشق میں ہونی ہے رسوائی بہت

 ہم نے مانا عشق میں ہونی ہے رُسوائی بہت

بیٹھ میرے پاس، ہم نے یہ سزا پائی بہت

اک عذابِ جان ہے یہ یاد ماضی کی مگر

یاد آتا ہے مجھے اکثر وہ ہرجائی بہت

کوئی گل کِھلتا نہیں گلشن میں میرے دیکھئے

جب بہار آئی گلِستاں سے پَرے آئی بہت

آنکھ تک محدود ہو دل کی خبر تم کو نہیں

بیٹھ رہئے گا سطح پر ، ہے یہ گہرائی بہت

وقت مشکل جب پڑے کوئی نظر آتا نہیں

اس زمانے سے رہی میری شناسائی بہت

یہ بھی آخر چھوڑ کر جاتی ہے اس کو روکئے

روح کو قسموں کی بھی زنجیر پہنائی بہت

آج اس کو دیکھ کر شہزاد! پہچانا نہیں

یوں نظر اشکوں سے میری آج دُھندلائی بہت


شہزاد حیدر

No comments:

Post a Comment