ہر چاک اب جگر کا سلا دینا چاہیۓ
پُر خار حسرتوں کو جلا دینا چاہیۓ
جب عشق کا نصاب ہی تبدیل ہو گیا
تو نام بھی وفا کا مٹا دینا چاہیۓ
ہر شخص ہے غلام یہاں اپنے نفس کا
اخلاص کی روش کو بُھلا دینا چاہیۓ
برباد ہو چکا ہے مرے دل کا یہ چمن
خوابوں کی تتلیوں کو اُڑا دینا چاہیۓ
مانوس ہو چکے ہیں اندھیروں سے اس قدر
تاروں کو اور قمر کو بجھا دینا چاہیۓ
اس دیس میں ٹھکانے کے دن بیت ہی گئے
موسم ہے ہجرتوں کا بتا دینا چاہیۓ
پندار کی شکست نے بےحال کر دیا
اپنی انا کے بُت کو گرا دینا چاہیۓ
آواز اب ضمیر کی سنتا نہیں کوئی
احساس کی چُبھن کو مٹا دینا چاہیۓ
ایمان کا ترازو گناہوں سے لد چکا
اب حشر ہی خُدا کو اُٹھا دینا چاہیۓ
ہم بوجھ زندگی کا اُٹھائیں گے کب تلک
اب دار پہ جبیں کو جھکا دینا چاہیۓ
زرقا مفتی
No comments:
Post a Comment