Friday, 4 February 2022

کوئی ہنسائے تو ہنس دوں رلائے رو لوں میں

 کوئی ہنسائے تو ہنس دوں رُلائے رو لوں میں

یہ زندگی ہے تو پھر اس سے ہاتھ دھو لوں میں

میں حرف حرف رہا ہوں صلیب و دار بدوش

تو پھر جو تو نے کہا ہے اسے بھی تولوں میں

میرے خدا نے مجھے بولنا سکھایا ہے

تو پھر جو ہر حرفِ یقیں ہے وہ کیوں نہ بولوں میں

جنہیں سلیقۂ اظہارِ آرزو ہی نہیں

وہ لوگ چاہتے یہ ہیں زباں نہ کھولوں میں

سحر ہوئی تو یہاں سخت معرکہ ہو گا

ابھی تو رات کا پہلا پہر ہے سو لوں میں

یہ لوگ مُردہ پرستی کے فن میں ماہر ہیں

یہ مجھ کو روئیں گے کل آج ان کو رو لوں میں

حرم سے دور ہی کتنا ہے مے کدہ خالد

اب آ گیا ہوں ادھر تو اُدھر بھی ہو لوں میں


خالد علیگ

No comments:

Post a Comment