Friday, 4 February 2022

راستہ کٹتا نہیں عمر تو کٹ جاتی ہے

 راستہ کٹتا نہیں،۔ عمر تو کٹ جاتی ہے

جو رکاوٹ ہو وہ خود راہ سے ہٹ جاتی ہے

کیسی مجبوریٔ احساس و خیالات ہے یہ

غم کے بٹنے سے تِری یاد بھی بٹ جاتی ہے

خود پسندی ہے تعلق میں خرابی کا سبب

دوستی سامنے آ آ کے پلٹ جاتی ہے

روز بنتے ہیں محبت کے لیے تاج محل

روز نفرت میں زمیں ہلتی ہے پھٹ جاتی ہے

اس خرابے کی ہے تعمیر ہی ایسی سلمان

غم نہ پھیلے تو خوشی آپ سمٹ جاتی ہے


سلمان صدیق

No comments:

Post a Comment