تُو ہوا کے ہاتھ پہ چاہتوں کا دِیا جلانے کی ضد نہ کر
یہ اُداس لوگوں کا شہر ہے یہاں مسکرانے کی ضد نہ کر
میں ہوں دوستوں کا ڈسا ہُوا، مِرا غم ہے حد سے بڑھا ہُوا
میں شکستہ گھر کی مثال ہوں مِرے پاس آنے کی ضد نہ کر
میں تِری غزل تو نہیں ہوں نا، کہ ہر ایک لب پہ سجا رہوں
میں تو ایک مصرعۂ درد ہوں مجھے گنگنانے کی ضد نہ کر
مجھے رفتہ رفتہ نصیب کر مِری جان ہجر کی لذتیں
مِرے زخم زخم سے لطف لے مِرے ٹوٹ جانے کی ضد نہ کر
ابھی لَوٹ آ، ابھی وقت ہے، ابھی سانس باقی ہے جسم میں
تجھے عِلم ہے مِری جاں ہے تُو مجھے آزمانے کی ضد نہ کر
یونہی روشنی کی طلب میں تُو مِرے دِل کو دے نہ اذیتیں
جو کسی کے ہجر میں جل بجھا اُسے پھر جلانے کی ضد نہ کر
میں ہی تیری قیمتی چیز تھا، میں ہی تجھ کو سب سے عزیز تھا
یہی سچ ہے تو مِرے نیرا، مجھے چھوڑ جانے کی ضد نہ کر
شہباز نیر
No comments:
Post a Comment