Monday, 2 August 2021

اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے

 اور تھوڑا سا بکھر جاؤں یہی ٹھانی ہے

زندگی میں نے ابھی ہار کہاں مانی ہے

ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے تو کچھ ملتا نہیں

دشت و صحرا کی میاں خاک کبھی چھانی ہے

قتل کو قتل جو کہتے ہیں غلط کہتے ہیں

کچھ نہیں ظلِ الٰہی کی یہ نادانی ہے

سہم جاتے ہیں اگر پتہ بھی کوئی کھڑکے

جانتے سب ہیں تِرا ذمہ نگہبانی ہے

اپنی غیرت کا سمندر ابھی سُوکھا تو نہیں

بُوند بھر ہی سہی آنکھوں میں ابھی پانی ہے


حسنین عاقب

No comments:

Post a Comment