عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ بر امام حسین
جو اہلِ بیت کا دل سے غلام ہونے لگے
اسی کا دونوں جہانوں میں نام ہونے لگے
حسینُ مِنی و انا من الحسین" ہے یار"
میں نعت کہنے لگوں تو سلام ہونے لگے
حسینؑ دوشِ محمدﷺ پہ جب سوار ہوئے
طویل سجدے ہوئے، کم قیام ہونے لگے
پڑھا درود، پڑھیں جب بخاری و مسلم
تو اہلِ بیت علیہ السلام ہونے لگے
مِرے حسینؑ کے جیسا کوئی سخنور نئیں
جو نوکِ نیزہ پہ بھی ہمکلام ہونے لگے
میں ان کے دھیان میں گم سُم نکل پڑا گھر سے
یقین مانیے خود میرے کام ہونے لگے
نمازِ فجر کی تسبیح میں مِرے شہباز
مدینہ دھیان میں آئے تو شام ہونے لگے
شہباز نیر
No comments:
Post a Comment