Tuesday, 9 August 2022

مسافران مصیبت وطن میں آتے ہیں

عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


مسافرانِ مصیبت وطن میں آتے ہیں​

سفر سے آتے ہیں سوغاتِ نذر لاتے ہیں​

جو پیشوائی کو آتا ہے منہ چھپاتے ہیں​

سوئے مدینہ یہ رو رو کے غل مچاتے ہیں​

لٹا کے آئے ہیں زہرا کے ہم گھرانے کو​

نہ کر قبول تو ہم بے کسوں کے آنے کو

مدینہ یاد تو ہو گا تجھے وہ جاہ و حشم​

گئے تھے کیسے تجمل سے کربلا کو ہم​

وہ خیمہ اور وہ سپہ اور فوج اور وہ علم​

اور اب سیاہ کفنی اور حسین کا ماتم​

پسند آمدِ ذریتِ رسولﷺ نہ کر​

مدینہ ایسے حقیروں کو تو قبول نہ کر​

مدینہ ہم تِرے والی کو آئے ہیں کھو کر​

مدینہ گردنِ شبیرؑ پر چلا خنجر​

مدینہ کوفے میں سر ننگے ہم پھرے در در​

مدینہ داغِ رسن ہیں ہمارے شانوں پر​

نہ راہ دے ہمیں، زہراؑ کا نورِ عین نہیں​

مدینہ اکبرؑ و قاسمؑ نہیں، حسینؑ نہیں​

ہلی زمین مدینے کی اس گھڑی پیہم​

کیا بشیر کو سجادؑ نے طلب اس دم​

گلے میں ڈال دی شالِ عزا بدیدۂ نم​

اور اس کے ہاتھ میں رو کر دیا سیاہ علم​

کہا کہ جا نہیں گو اپنے منہ دکھانے کی​

مگر وطن میں خبر کر دے میرے آنے کی​

چلا بشیر یہ دیتا ہوا خبر ہر جا​

مگر محلۂ ہاشم میں دیکھتا ہے کیا​

کہ اک مریضہ سرِ راہ ہے کھڑی تنہا​

کہا بشیر نے کیا نام، بولی وہ صغراؑ​

وہ بولا راستے میں کیوں تو شور و شین میں ہے​

کہا یہ حال مِرا فرقتِ حسینؑ میں ہے​

کھڑی ہوں منتظر اکبرؑ کی، دیکھوں کب آئے​

میں گھر سے نکلی ہوں شاید کہ قاصد آ جائے​

خدا کہیں مِرے بچھڑوں کو خیر سے لائے​

کہ یہ مریضہ لبِ گور ہے، شفا پائے​

کوئی پدر کی خبر لائے، پاؤں پڑتی ہوں​

جدا مسیح سے ہوں، ایڑیاں رگڑتی ہوں​

وہ رو کے بولی کہ بھائی یہ کیا سناتا ہے​

وہ کون ہے جسے بیمار تو بتاتا ہے​

سنانی کس کی ہے مجھ کو یہ ہول آتا ہے​

کہ مصطفیٰؐ کی لحد پر تو کہنے جاتا ہے​

عمامہ پھینک کر اُس نے کہا دہائی ہے​

تِرے حسینؑ کی صغراؑ سنانی آئی ہے​

گری زمین پہ صغراؑ کہ اس پہ چرخ گرا​

خبر یہ پھیلی تو ماتم ہر ایک گھر میں ہوا​

نکل نکل پڑیں سب عورتیں برہنہ پا​

نبیؐ کی قبر پہ جا کر بشیر نے یہ کہا​

سفر سے پھر کے ادھر بھوکی پیاسیاں آئیں​

اٹھو رسولﷺ تمہاری نواسیاں آئیں​

بشیر کہتا ہے واللہ روضہ کانپ گیا​

لحد سے نالہ ہوا وا حسینؑ کا پیدا​

ادھر پڑی تھی جو رستے میں فاطمہؑ صغرا​

زنانِ ہاشمیہ نے وہاں ہجوم کیا​

ہلایا شانہ کہ سلطانِ مشرقین آئے​

اٹھو حسینؑ کی عاشق اٹھو حسینؑ آئے​

وہ آنکھیں کھول کے بولی کدھر گئے بابا​

کہ آیا قافلۂ کربلا بھی ننگے پا​

بہن حسینؑ کی رو رو کے دیتی تھی یہ ندا​

حسینؑ جب سے موئے میں نے سر نہیں ڈھانپا​

نہ مردہ اور نہ تابوت اخی کا لائی ہوں​

مدینے والو میں بھائی کو کھو کے آئی ہوں​

مدینے والو کہو اس بہن کی کیا تقدیر​

جو دیکھے اپنے برادر کے حلق پر شمشیر​

عزیزو اس کی سزا کیا ہے کچھ کرو تقریر​

لہو میں غرق جو دیکھے حسینؑ کی تصویر​

بتاؤ کہتے ہیں سب کیا اس اماں جائی کو​

جو اربعین تلک دے کفن نہ بھائی کو​

مرے حضور تھا حلقِ حسینؑ پر خنجر​

شہید ہو گیا ہم شکلِ مصطفیٰﷺ اکبرؑ​

کفن نہ دے سکی بھائی کو ہوں میں وہ خواہر​

مگر خدا کی قسم ہے نہ سر پہ تھی چادر ​

زمینِ گرم پہ بھائی کی لاش تنہا تھی​

حسینؑ جانتے ہیں میں اسیرِ اعدا تھی​

پدر کے لانے کا صغراؑ سے تھا کیا اقرار​

کہا تھا اماں نے زینبؑ حسینؑ سے ہشیار​

یہ کوئی پوچھے تو صغراؑ سے میں تمہارے نثار​

کہ تیرے باپ کو کھو آئی ہے یہ سینہ فگار​

وطن میں آنے دیں زینبؑ کو یا نہ آنے دیں​

نبیؐ کی قبر پہ جانے دیں یا نہ جانے دیں​

یہ ایک سمت سے پیدا ہوئی صدا ناگاہ​

پدر نے چھوڑ دیا تم بھی چھوڑتی ہو آہ​

پکاری وہ کہ یہ صغرا کی ہے صدا واللہ​

کہاں ہے میری بھتیجی اخی کی نورِ نگاہ​

ندا یہ آئی کہ اٹھتی ہوں اور گرتی ہوں​

پھوپھی کدھر ہو تمہیں ڈھونڈتی میں پھرتی ہوں​

بڑھی جو چند قدم زینبِؑ خجستہ صفات​

تو دیکھا دور سے صغرا کو اس طرح ہیہات​

دیے ہوئے ہیں کئی لڑکیاں بغل میں ہات​

گئی نہ سامنے صغراؑ کے زینبِؑ خوش ذات​

کبھی تو قافلے کے پیچھے جا کے چھپتی ہے​

کبھی رسولؐ کے روضے میں آ کے چھپتی ہے​

نبیؐ کی قبر پہ صغراؑ نے پایا زینبؑ کو​

گلے لپٹ کے پکاری پدر کا پُرسا دو​

وہ بولی سارے عزیزوں کا اپنے پُرسا لو​

سبھی شہید ہوئے فدیۂ شہِؑ خوش خُو​

تُو جانتی تھی کہ باباؑ فقط مُوا صغراؑ​

شہید تیر سے اصغرؑ تلک ہُوا صغراؑ​

ابھی یہ کہتی تھی زینبؑ بنالۂ جاں کاہ​

کہ ایک شیشہ لیے آئی امِ سلمہ آہ​

بھرا ہوا تھا وہ شیشہ لہو سے سب واللہ​

حرم نے منہ پہ مَلا وہ لہو بحالِ تباہ​

بٹھا کے بیچ میں صغراؑ کو گرد رونے لگے​

حسینؑ امام کے نالے بلند ہونے لگے​

فغاں تھی فاطمہؑ صغراؑ کی آہ بابا آہ​

پکارتی تھی یہ زینبؑ دہائی یا جدہ​

نبیؐ کی قبر سے پیدا ہوئی صدا ناگاہ​

کہ بس کرو ہے تزلزل میں یادگاہِ الٰہ​

یہ کربلا سے خبر جبرئیل لایا ہے​

شہید روتے ہیں شبیرؑ کو غش آیا ہے​

ندا یہ سن کے ہوئے قبر سے وداع حرم​

میانِ حجرۂ زہراؑ بہت کیا ماتم​

دبیر بس کہ ہے بے انتہا حسینؑ کا غم​

زیادہ چل نہیں سکتی ہے اب زبانِ قلم​

بیانِ حادثۂ اہلِ بیت آساں نیست​

حکایتیست کہ آں را بشرح پایاں نیست​

مرزا دبیر

سلامت علی دبیر

No comments:

Post a Comment