Wednesday, 6 October 2021

ساقیا آ ذرا سنبھال ہمیں عشق نے کر دیا نڈھال ہمیں

 ساقیا! آ ذرا سنبھال ہمیں

عشق نے کر دیا نڈھال ہمیں

تیری دہلیز پر جو آئے ہیں

سرِ بازار مت اچھال ہمیں

تجھ کو مانا ہے زندگی اپنی

اپنی دنیا سے مت نکال ہمیں

پستیوں سے اُڑان سیکھی ہے

اب ڈرائے گا کیا زوال ہمیں

شام و صبح تیری یاد آتی ہے

کب نہ آیا تِرا خیال ہمیں

جان و دل تجھ پہ وار ڈالے ہیں

اب نہیں ہے کوئی ملال ہمیں

کوزہ گر! تیرے چاک پر ہیں ہم

صورتِ یار آج ڈھال ہمیں

کون چاہے گا یوں تمہیں عاشی

ہے اگر کوئی دو مثال ہمیں


عاشی مندوزئی

No comments:

Post a Comment