رائیگانی کا عارضہ ہے مجھے
زندگی ایک حادثہ ہے مجھے
اس خرابے سے کب گِلہ ہے مجھے
اپنا ہونا ہی مسئلہ ہے مجھے
ضمنی کردار ہوں کہانی کا
اپنی تقدیر کا پتا ہے مجھے
رات بھر نیند کے دریچے سے
خواب اندر سے دیکھتا ہے مجھے
کتنے چہرے اُٹھائے پھرتا ہوں
آئینہ پھر بھی جانتا ہے مجھے
اک خوشی سُود پر ملی تھی کہیں
اس کا قرضہ اُتارنا ہے مجھے
یوں ہی خاموش میں نہیں بیٹھا
شور اندر کا ٹوکتا ہے مجھے
اسحاق وردگ
شہر میں گاؤں کے پرندے
No comments:
Post a Comment