Monday, 24 May 2021

ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے

 ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے

جس میں دہشتگرد کرونا بنتا ہے

جب اس کی تصویر صدا میں ڈھل جائے

پھر تو میرا کچھ تو کہو نا بنتا ہے

نو صدیوں کا قصہ کہتا ہے ہم سے

جنگوں میں پشتون کھلونا بنتا ہے

شرط یہی ہے تیرے بدن کا لمس ملے

پیتل کا زیور بھی سونا بنتا ہے

آئینے کا مجھ پر ہنسنا جائز ہے

آئینے پر میرا رونا بنتا ہے

یاد آتا ہے مجھ کو پھر انسان کا مرنا

مٹی سے جب کوئی کھلونا بنتا ہے

قیدی پرندے روز خدا سے کہتے ہیں

کیا ہم سب کا باہر ہونا بنتا ہے


اسحاق وردگ

No comments:

Post a Comment