ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشتگرد کرونا بنتا ہے
جب اس کی تصویر صدا میں ڈھل جائے
پھر تو میرا کچھ تو کہو نا بنتا ہے
نو صدیوں کا قصہ کہتا ہے ہم سے
جنگوں میں پشتون کھلونا بنتا ہے
شرط یہی ہے تیرے بدن کا لمس ملے
پیتل کا زیور بھی سونا بنتا ہے
آئینے کا مجھ پر ہنسنا جائز ہے
آئینے پر میرا رونا بنتا ہے
یاد آتا ہے مجھ کو پھر انسان کا مرنا
مٹی سے جب کوئی کھلونا بنتا ہے
قیدی پرندے روز خدا سے کہتے ہیں
کیا ہم سب کا باہر ہونا بنتا ہے
اسحاق وردگ
No comments:
Post a Comment