جھیل
ریشمی سلوٹوں سے بھرے پانیوں پر نہ اُڑ
میری تصدیق کر، میری حالت سے جُڑ اور بتا
جھیل میں ایک کنکر گِرا
سینکڑوں دائروں میں بٹی جھیل کیسی تڑپنے لگی
فرق دانوں کے انبار پر، لاجوردی فلک کے تلے
آتشیں اینٹ اپنی جگہ سے ہِلی
بیچ میں ایک پردہ جو حائل رہا تھا
ہزاروں برس، ہٹ گیا
تیز طوفان اُٹھا اور آتش فشاں پھَٹ گیا
ذرے اوپر اُڑے، نیچے جوہڑ بنا
اپنی کلی پہ جیسے زمین تیز ہونے لگی
ظہر کے وقت جب فرش اُکھڑا
نمازی اچانک یہاں دم بدم
گہرے ہوتے گڑھے میں گرے
بطک تصدیق کر
جھیل کی سطح کے نیچے کُہرام ہے
جھیل کی سطحِ خاموش کے نیچے
آپس میں گڈ مڈ پڑے لوگ ہیں
جھیل کی سطحِ خاموش کے نیچے
ترنوں سے دہکی ہوئی آگ ہے
اقتدار جاوید
No comments:
Post a Comment