Monday, 24 May 2021

راتوں کی دلدل سے نکل کر

 راتوں کی دلدل سے نکل کر


راتوں کی دلدل سے نکل کر

نا موجود زمانے کی

بوجھل تشنگیوں کی بابت

آوازوں کا شور سمندر

چاروں جانب پھیل گیا ہے

جس کی تہ میں

اندیشوں میں جکڑی ہوئی

لاکھوں، کروڑوں زندگیوں کے

گمنامی میں دھڑکتے دل ہیں

جن کی بقا کی فکر میں

جگمگ کرتی روشنیوں کے

پار پرے سے

مٹی کا بے رُوح بدن اور بے ہمت

اُمیدیں لے کر

سانسیں پھونک رہا ہے کوئی

کیسا عجب وہ کایا پلٹ ہے

جس نے ابد کی شب تک خود کو

زندہ رکھنے کی خاطر یہ

جتن کیا ہے

لیکن اس تہ داری میں، اور

بیداری میں عمروں کی

جب نیند کا رس گھُل جاتا ہے

پھر پتھریلی تاریکی میں

اک در کھُلتا ہے، خدشوں والا

جس کے بھیتر سناٹے میں

آوازوں کا شور سمندر

جاگی ہوئی سب راتوں کی پاتال

کے مخفی راز تو کیا

سب ساتھ بہا کر لے جاتا ہے


فیصل ہاشمی

No comments:

Post a Comment