راتوں کی دلدل سے نکل کر
راتوں کی دلدل سے نکل کر
نا موجود زمانے کی
بوجھل تشنگیوں کی بابت
آوازوں کا شور سمندر
چاروں جانب پھیل گیا ہے
جس کی تہ میں
اندیشوں میں جکڑی ہوئی
لاکھوں، کروڑوں زندگیوں کے
گمنامی میں دھڑکتے دل ہیں
جن کی بقا کی فکر میں
جگمگ کرتی روشنیوں کے
پار پرے سے
مٹی کا بے رُوح بدن اور بے ہمت
اُمیدیں لے کر
سانسیں پھونک رہا ہے کوئی
کیسا عجب وہ کایا پلٹ ہے
جس نے ابد کی شب تک خود کو
زندہ رکھنے کی خاطر یہ
جتن کیا ہے
لیکن اس تہ داری میں، اور
بیداری میں عمروں کی
جب نیند کا رس گھُل جاتا ہے
پھر پتھریلی تاریکی میں
اک در کھُلتا ہے، خدشوں والا
جس کے بھیتر سناٹے میں
آوازوں کا شور سمندر
جاگی ہوئی سب راتوں کی پاتال
کے مخفی راز تو کیا
سب ساتھ بہا کر لے جاتا ہے
فیصل ہاشمی
No comments:
Post a Comment