Monday, 24 May 2021

آنکھوں نے اسے تجھ سے چھپانا بھی نہیں ہے

 آنکھوں نے اسے تجھ سے چھُپانا بھی نہیں ہے

جو خواب مجھے تجھ کو دِکھانا بھی نہیں ہے

کھُلنے کی نہیں تجھ پہ مِری ذات کی پرتیں

یہ شعر مجھے تجھ کو سُنانا بھی نہیں ہے

کیوں نیند سے لبریز ہوئی جاتی ہیں آنکھیں 

جب تجھ کو مِرے خواب میں آنا بھی نہیں ہے

رہنے دے مجھے عالمِ امکاں میں مِرے دوست

ابہام سے آگے مجھے جانا بھی نہیں ہے

ہم لوگ تعلق میں درختوں کی طرح ہیں

ہم نے تو خساروں کا بتانا بھی نہیں ہے

جانا ہے کہیں خود سے ملاقات پہ مجھ کو

اور گھر سے نکلنے کا بہانہ بھی نہیں ہے

لگتا ہے ابھی فاصلے قائم ہی رہیں گے

مجھ تک جسے آنا تھا روانہ بھی نہیں ہے

کیوں درد کا احساس دِلاتا نہیں مجھ کو

اک زخمِ تعلق جو پرانا بھی نہیں ہے

ڈرتے ہیں درِ غم سے اٹھائے ہی نہ جائیں

اپنا تو کوئی اور ٹھکانہ بھی نہیں ہے

اک ایسی مسافت پہ روانہ ہوں کہ جس میں

رکنا بھی نہیں ہے، کہیں جانا بھی نہیں ہے


شعیب بخاری

No comments:

Post a Comment