سحر میں تاریکیاں جگاؤ مِری بلا سے
خوشی کی لے میں اُداسی گاؤ مری بلا سے
مِری بلا سے کوئی بھی لے لے تِری محبت
اُلٹ طرف ہو اگر بہاؤ مری بلا سے
یقین ٹُوٹا ہے پھر بحالی نہیں ہے ممکن
قسم اٹھاؤ یا زہر کھاؤ، مری بلا سے
تمہارا ذکر اب کسی غزل میں نہیں ملے گی
سو میرے شعروں کا گنگناؤ مری بلا سے
وہ ہنستی آنکھوں کی لڑکی تم نے اُجاڑ دی ہے
خوشی سے اب اپنا گھر بساؤ مری بلا سے
کہ عمر میں نے بغیر گہنوں کے کاٹ لی ہے
فلک سے اب تارے توڑ لاؤ، مری بلا سے
کنول میں رونے سے کافی بیزار ہو چکی ہوں
جو چھوڑنا ہے تو چھوڑ جاؤ، مری بلا سے
افشاں کنول
No comments:
Post a Comment