Monday, 24 May 2021

یاد کے آخری جزیروں پر سوچ کا اک کھلا سمندر ہے

 یاد کے آخری جزیروں پر 

سوچ کا اک کُھلا سمندر ہے 

اور سفر بے نشان قدموں کا 

اَن کہے اور کہے سے لفظوں کا

جا بجا کچھ پرانے دوست پیڑ

پیاسی زمین سے پیوست 

کالے سنسان ساحلوں سے پرے

جل پری کا کوئی جزیرہ ہے 

جہاں سورج غروب ہوتا ہے 

چاندنی اپنے بال دھونے کو

اور اماوس سنگھار کرنے کو

اس جزیرے میں جا نکلتی ہے

زرد رُو خواب چُرمراتے ہوئے

آ کے پیروں تلے سسکتے ہیں 

ٹُوٹے وعدے بگُولے کی مانند

راستے ڈُھونڈنے نکلتے ہیں

بس وہیں جا کے چھوڑ آئی ہوں 

اپنی آنکھوں کے دُھندلے آئینے 

ہر صدی کی تکان اوڑھے ہوئے

ایڑیوں سے ٹپکتا سُرخ لہو 

ساتھ لے کر میں اپنے سارے عذاب

جانے کب اور کہاں پہ جا ٹھہروں


شازیہ مفتی

No comments:

Post a Comment