Monday, 24 May 2021

دیکھ کر اٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تو

 دیکھ کر اُٹھتا ہوا شوق کا سر یعنی تُو

کاٹ ڈالے گا مِرا دستِ ہنر یعنی تو

بیج میرا تھا مگر شاخِ ثمر پر تیرا ہاتھ

کہیں ہوتا ہے سرِ شاخِ شجر یعنی تو

کوئی منزل کی خبر دیتا ہے یعنی کوئی

اور بنتا ہے مِری راہ گزر یعنی تو

آئینہ عکس کی حیرت میں سمٹ جاتا ہے

ہے تصور میں کوئی آئینہ گر یعنی تو

باندھ دیتا ہے مِرے پاؤں میں زنجیر نئی

مجھ کو جانے نہیں دیتا مِرے گھر یعنی تو

اے نبیل ایک سفر اور کرے گا کب تک

کب تک آخر یہ سفر ایک سفر یعنی تو


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment