Monday, 24 May 2021

چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

 چاروں جانب پاگل خانے لگتے ہیں

موسم ایسے ہوش اُڑانے لگتے ہیں

ملبہ گرنے لگتا ہے سب کمرے کا

جب تیری تصویر جلانے لگتے ہیں

گھبرا کے اس دور کے وحشی انساں سے

دیواروں کو راز بتانے لگتے ہیں

آنکھ اُٹھا کر جب بھی دیکھوں پیڑوں کو

مجھ کو میرے دوست پرانے لگتے ہیں

ذہن میں ماضی جب بھی گھومنے لگتا ہے

آنکھ میں کتنے آنسو آنے لگتے ہیں

دل کے ہاتھوں ہو کے ہم مجبور سدا

ارمانوں کی لاش اٹھانے لگتے ہیں

پتھر جیسی دنیا ہے خود غرضی ہے

اس کو کیوں کر درد سنانے لگتے ہیں

یار نبیل اُنہیں میں جتنا بھُولتا ہوں

مجھ کو یاد وہ اتنا آنے لگتے ہیں


نبیل احمد

No comments:

Post a Comment