Monday, 24 May 2021

چپ سی لگ جاتی ہے

 اندیشے


چُپ سی لگ جاتی ہے

رُوح کے ہر اک تار میں تیرے ہجر چمک اُٹھتے ہیں

تجھ سے ملتے وقت مِری جاں

جسم و جاں کے ہر ریشے میں

کچے پکے اور ادھورے خواب مہک اُٹھتے ہیں

موسمِ جاں میں ضبط کے کتنے پھُول دہک اُٹھتے ہیں

چُپ سی لگ جاتی ہے

تجھ سے بچھڑتے وقت مِری جاں

چُپ سی لگ جاتی ہے


ایوب خاور

No comments:

Post a Comment