Friday, 9 April 2021

کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

 کچھ بجھی بجھی سی ہے انجمن نہ جانے کیوں

زندگی میں پنہاں ہے اک چُبھن نہ جانے کیوں

اور بھی بہت سے ہیں لوٹنے کو دنیا میں

بن گئے ہیں رہبر ہی راہزن نہ جانے کیوں

ان کی فکر اعلیٰ پر لوگ سر کو دُھنتے تھے

آج وہ پریشاں ہیں اہلِ فن نہ جانے کیوں

جس چمن میں صدیوں سے تھا بہار کا قبضہ

اس میں ہے خزاؤں کا اب چلن نہ جانے کیوں

جن گلوں سے کانٹے خود دور بچ کے رہتے تھے

چاک چاک ہیں ان کے پیرہن نہ جانے کیوں

غیر کچھ تو کرتے ہیں پاس اور لحاظ اپنا

اور دوست ہوتے ہیں خندہ زن نہ جانے کیوں

غنچے غنچے کے تیور گلستاں میں بدلے ہیں

ہم چمن میں رہ کر ہیں بے چمن نہ جانے کیوں

جن کو اپنا سمجھے تھے کرتے ہیں کنول ہم سے

دوستی کے پردے میں مکر و فن نہ جانے کیوں


کنول ڈبائیوی​

No comments:

Post a Comment