مجھے اداس بنا کر وہ خوش ہُوا کیسے
تعلقات کا الٹا اثر پڑا کیسے
قریب آئے تو دکھلاؤں اس کا عکس اسے
میں اس کے سامنے لے جاؤں آئینہ کیسے
ضرور اس نے پڑھا ہو گا میرے چہرے کو
نہیں ہے مجھ سے لگاؤ اگر کوئی اس کو
وہ میرا کرتا ہے غیروں میں تذکرہ کیسے
اگر یہ مان لوں میں نے سفر کیا ہی نہیں
پڑا ہے پاؤں میں پھر میرے آبلہ کیسے
نہیں ہے روح اگر ایک، اور دو قالب
جو درد دل میں اِدھر ہے اُدھر ہوا کیسے
نہ جانے کون سی بات اس کو کھا گئی یارو
وہ آج کرتا ہے رو رو کے التجا کیسے
وہ اس قدر ہے پشیماں کہ آنکھ کھلتی نہیں
کرے گا یاسؔ وہ اب میرا سامنا کیسے
یاس چاند پوری
No comments:
Post a Comment