Friday, 23 December 2016

بیاض جاں کے صفحوں پر وہ جس کا نام لکھا تھا

بیاضِ جاں کے صفحوں پر وہ جس کا نام لکھا تھا
اسی کے واسطے اس دل نے ہر پیغام لکھا تھا
مِری قسمت کے لکھے کو مٹانا چاہتا تھا وہ
مِرے ہاتھوں کی ریکھاؤں میں جسکا نام لکھا تھا
کہ ٹوٹے دل کو لیکر اب مجھے بھی لوٹ جانا ہے
جو گزرا شہر میں تیرے، وہی انجام لکھا تھا
کبھی جو بات آتی ہے تو ہنس کر ٹال دیتا ہے
مگر میں جانتا ہوں خط مِرے ہی نام لکھا تھا
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں دربدر پھرتے ہو کیوں عادلؔ
کہاں تقدیر میں اپنی کبھی آرام لکھا تھا

عادل حیات

No comments:

Post a Comment