بیاضِ جاں کے صفحوں پر وہ جس کا نام لکھا تھا
اسی کے واسطے اس دل نے ہر پیغام لکھا تھا
مِری قسمت کے لکھے کو مٹانا چاہتا تھا وہ
مِرے ہاتھوں کی ریکھاؤں میں جسکا نام لکھا تھا
کہ ٹوٹے دل کو لیکر اب مجھے بھی لوٹ جانا ہے
کبھی جو بات آتی ہے تو ہنس کر ٹال دیتا ہے
مگر میں جانتا ہوں خط مِرے ہی نام لکھا تھا
وہ مجھ سے پوچھتے ہیں دربدر پھرتے ہو کیوں عادلؔ
کہاں تقدیر میں اپنی کبھی آرام لکھا تھا
عادل حیات
No comments:
Post a Comment