نہیں تھی جان مگر وہ بھی مسکرایا تھا
وطن کے نام پہ جس نے لہو بہایا تھا
میں اس کو بھولنا چاہوں یہ ہو نہیں سکتا
وہی تو ہے کہ بھنور سے نکال لایا تھا
وہ ایک شخص کہ چہرے کو پڑھ گیا کیسے
تلاش میں ہوں اسی کی میں حدِ امکاں تک
خیال جس کا یہاں مجھ کو لے کے آیا تھا
یہ زندگی تو گزر ہی گئی، مگر سچ ہے
کوئی سکون کا لمحہ نہ میں نے پایا تھا
تمہاری آنکھ کا دریا بھی خشک ہے عادلؔ
وہ لے کے پیاس کا صحرا یہاں تک آیا تھا
عادل حیات
No comments:
Post a Comment