Friday, 23 December 2016

وہ لے کے پیاس کا صحرا یہاں تک آیا تھا

نہیں تھی جان مگر وہ بھی مسکرایا تھا
وطن کے نام پہ جس نے لہو بہایا تھا
میں اس کو بھولنا چاہوں یہ ہو نہیں سکتا
وہی تو ہے کہ بھنور سے نکال لایا تھا
وہ ایک شخص کہ چہرے کو پڑھ گیا کیسے
ہمارے حال پہ گرد و غبار چھایا تھا
تلاش میں ہوں اسی کی میں حدِ امکاں تک
خیال جس کا یہاں مجھ کو لے کے آیا تھا
یہ زندگی تو گزر ہی گئی، مگر سچ ہے
کوئی سکون کا لمحہ نہ میں نے پایا تھا
تمہاری آنکھ کا دریا بھی خشک ہے عادلؔ
وہ لے کے پیاس کا صحرا یہاں تک آیا تھا

عادل حیات

No comments:

Post a Comment