وہ نظریں مِرے دل کا منشا سمجھ کر
مجھے چھینے لیتی ہیں اپنا سمجھ کر
تمہی نے تو دیوانہ مجھ کو بنایا
تمہی ہنس رہے ہو تماشا سمجھ کر
لکھا خط انہیں، لکھ کے خود پھاڑ ڈالا
یہ مانا کہ بیمار سے تھا نہ مطلب
چلے آئے وہ رسمِ دنیا سمجھ کر
اسی نے کیا ہم کو پامال نخشبؔ
دیا دل جسے ہم نے اپنا سمجھ کر
نخشب جارچوی
No comments:
Post a Comment